کارکلا:11؍ مئی (ایس اؤ نیوز )مئیردیہات کے کونٹی بئیل سماج مندر کی بوتھ نمبر 155پر جعلی ووٹنگ کرنے کے بعد باہر نکلے شخص کو کانگریس کارکنان نے پکڑ کر پولنگ بوتھ افسران کے حوالےکردیا، یہ واردات 10 مئی کو منعقدہ انتخابات کے دوران پیش آئی۔ معاملے کولےکر کچھ دیر کے لئے حالات کشیدہ ہوگئےکیونکہ احتجاجیوں نے پولنگ آفسران کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پورے کارکلا اسمبلی حلقہ میں ہوئے انتخابات کو لے کر ہی شک و شبہ کا اظہار کیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق جائےو قوع پر موجود کانگریس کارکنان نے واقعے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے بتایاکہ دبئی میں رہنے والے سبھاش شٹی کا ووٹ پول کرنے ایک نابالغ لڑکا پولنگ بوتھ کے اندر گیا تھا اور ووٹنگ کرکے باہر نکلا، یہ کیسے ممکن ہے کہ آفسران کی رضامندی کے بغیرکوئی نقلی ووٹرباآسانی پولنگ بوتھ کے اندر جاکر ووٹنگ کرکے باہر آتا ہے؟ کارکنان نے سوال کیا کہ لڑکا جب اندر گیا تو پولنگ افسران نے کس بنیاد پر اُسے ووٹ کرنے دیا ؟ ہمیں پولنگ آفسران پر شک ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کرنے دیا، کانگریس کارکنان نے احتجاج درج کرتے ہوئے پورے کارکلا میں ہوئے انتخابات پر ہی سوالیہ نشان لگایا کہ اس پولنگ بوتھ پر ایسا ہونا ممکن ہے تو دوسرے پولنگ بوتھوں پر بھی ایسے ہی نقلی ووٹنگ ہوئے ہوں گے۔کارکنان نے پولنگ اہلکارون کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگر کاروائی نہیں کی گئی ہم دھرنے پر بیٹھیں گے۔کانگریس کارکنان کا الزام تھا کہ یہاں پولنگ بوتھ افسران مقامی بی جے پی رکن اسمبلی سنیل کمار کے دباؤ میں کام کررہے ہیں۔
ایک اوراحتجاجی نے بتایا کہ جو شخص دبئی میں ہے اس کا ووٹ ایک لڑکا آکرکرتا ہے اور افسران اس کو موقع فراہم کرتےہیں تو سمجھا جاسکتا ہے کہ کارکلا ودھان سبھا حلقہ کی کیا صورت حال ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست کا وزیر خود ایسا کرتاہے تو پھر جمہوریت کیسے باقی رہے گی۔
اس تعلق سے احتجاج کرنے کی وڈیو کلپس بھی سوشیل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔